Table of Contents
نیٹو کے اعلیٰ فوجی کمانڈر جنرل الیکسس گرنکیوچ نے روس کو خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کی سرزمین پر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
امریکی فضائیہ کے جنرل گرنکیوچ نے یہ بات وارسا سکیورٹی فورم میں کہی۔ انہوں نے نیٹو کے دفاعی منصوبے کی تفصیلات بھی بیان کیں۔
ان کے مطابق، نیٹو کسی بھی حملے کو ناکام بنائے گا۔ اتحاد کا مقصد مخالف قوت کو اپنے علاقے پر قبضہ کرنے سے روکنا ہے۔
گرنکیوچ نے واضح کیا کہ حملہ آور فوجی نظام کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس میں حملے میں شریک فوج کے علاوہ اس کی معاونت کرنے والے نظام بھی شامل ہیں۔
نیٹو کی حکمت عملی کے تین مراحل
گرنکیوچ نے دفاعی حکمت عملی کے تین بنیادی مراحل بیان کیے۔ ان میں حملہ روکنا، پیش قدمی محدود کرنا اور دشمن کی جنگی صلاحیت ختم کرنا شامل ہیں۔
پہلا مرحلہ: حملہ روکنا
پہلے مرحلے میں نیٹو ابتدائی حملے کو روکنے کی کوشش کرے گا۔ اس کا مقصد اتحادی علاقے پر قبضے کی کوشش ناکام بنانا ہے۔
دوسرا مرحلہ: دشمن کی پیش قدمی روکنا
اگر حملہ جاری رہا تو نیٹو دشمن کی پیش قدمی محدود کرے گا۔ اس مرحلے میں حملہ آور قوت کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے پر توجہ ہوگی۔
تیسرا مرحلہ: جنگی صلاحیت کو نقصان پہنچانا
اگر ضرورت پڑی تو نیٹو دشمن کے جنگی نظام کو نشانہ بنائے گا۔ اس میں حملہ آور فوج کے علاوہ معاون اور کنٹرول کرنے والے نظام بھی شامل ہوں گے۔
گرنکیوچ نے کہا کہ نیٹو کا مقصد کسی بھی حملے کو بے نتیجہ بنانا ہے۔ انہوں نے اتحاد کے دفاعی کردار پر بھی زور دیا۔
یورپ اور روس کے درمیان بڑھتی کشیدگی
نیٹو کمانڈر کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپ اور روس کے تعلقات میں تناؤ بڑھ رہا ہے۔ یورپی حکومتوں نے ماسکو پر تخریبی کارروائیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔
ان الزامات میں سائبر حملے اور ڈرون دراندازی بھی شامل ہیں۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے سلامتی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
گرنکیوچ نے اپنی تقریر میں روس کا نام براہِ راست نہیں لیا۔ تاہم، ان کے بیان کو ماسکو کے لیے واضح پیغام قرار دیا گیا۔
نیٹو کے 2022 کے اسٹریٹجک تصور میں روس کو اتحاد کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
کیلینن گراڈ کے معاملے پر روس کی جوہری دھمکی
روس نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ کیلینن گراڈ کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش پر جوہری ہتھیار استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ کیلینن گراڈ روس کا ایک علاقہ ہے، جو روسی سرزمین سے الگ واقع ہے۔
اس بیان نے یورپ میں سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے تھے۔ نیٹو اور روس کے درمیان کشیدگی کا یہ معاملہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ، پیوٹن اور زیلنسکی سے متعلق پیش رفت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو سے متعلق مؤقف پر بھی اتحادی ممالک میں سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ڈیزل کی عالمی فراہمی سے متعلق معاہدے کا اعلان کیا۔
ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی پر تنقید بھی دہرائی۔ ان پیش رفتوں کے باعث یورپی اتحادیوں میں امریکی حمایت کے تسلسل سے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں۔
گرنکیوچ نے ان خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے جولائی میں انقرہ میں ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس کا حوالہ دیا۔
ان کے مطابق، ٹرمپ نے اس اجلاس میں اتحاد کے لیے محبت کا اظہار کیا تھا۔ گرنکیوچ نے کہا کہ وہ خود اس موقع پر موجود تھے۔
نیٹو شہریوں کو تحفظ کی یقین دہانی
گرنکیوچ نے نیٹو کے تقریباً ایک ارب شہریوں کو یقین دلانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، اتحاد جانتا ہے کہ ممکنہ حملے کا جواب کیسے دینا ہے۔
انہوں نے ممکنہ مخالفین کو بھی خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی اتحادی ملک پر حملہ کرنے کی کوشش ناکام بنائی جائے گی۔
نیٹو کمانڈر نے اتحاد کی دفاعی تیاریوں پر زور دیا۔ ان کے بیان کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ کسی بھی حملے کی کامیابی کو ناممکن بنایا جائے گا۔
