Table of Contents
سعودی عرب میں اقامہ، لیبر اور سرحدی سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ یکم سے 7 اکتوبر تک 13,889 افراد گرفتار کیے گئے۔
حکام کے مطابق، گرفتار افراد مختلف قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث تھے۔ ان میں اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے 6,785 افراد شامل ہیں۔
سرحدی سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی پر 3,710 افراد گرفتار ہوئے۔ لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں پر مزید 3,394 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے افراد
اس عرصے میں 1,382 افراد نے غیرقانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ان میں 66 فیصد ایتھوپیائی اور 33 فیصد یمنی شہری تھے۔ باقی ایک فیصد کا تعلق دیگر ممالک سے تھا۔
حکام نے غیرقانونی طور پر سعودی عرب سے نکلنے کی کوشش کرنے والے 34 افراد کو بھی گرفتار کیا۔
33,113 افراد کے خلاف قانونی کارروائی
حکام کے مطابق، مجموعی طور پر 33,113 افراد کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ ان میں 30,438 مرد اور 2,675 خواتین شامل ہیں۔
دستاویزات مکمل کرنے کے لیے 18,947 افراد کو متعلقہ سفارتی مشنز کے حوالے کیا گیا۔ مزید 4,596 افراد کو ملک بدر کرنے کے انتظامات کے لیے متعلقہ حکام کے پاس بھیجا گیا۔
مقررہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد 10,431 افراد کو سعودی عرب سے بے دخل کیا گیا۔
غیرقانونی قیام میں مدد دینے والوں کے خلاف کارروائی
سعودی حکام نے 21 افراد کو بھی گرفتار کیا۔ ان پر غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو نقل و حمل، رہائش یا ملازمت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
حکام کے مطابق، ایسے جرائم پر سخت سزائیں مقرر ہیں۔ سہولت فراہم کرنے والوں کو 15 سال تک قید ہوسکتی ہے۔ ان پر 10 لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ، جرم میں استعمال ہونے والی گاڑیاں اور جائیدادیں ضبط کی جاسکتی ہیں۔ یہ کارروائیاں غیرقانونی قیام اور اس میں معاونت کی روک تھام کے لیے کی جارہی ہیں۔
خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے کی اپیل
سعودی حکام نے عوام سے خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے کی اپیل کی ہے۔ مکہ مکرمہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں اطلاع کے لیے 911 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
دیگر علاقوں کے لیے متعلقہ سرکاری ہیلپ لائنوں سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ حکام نے زور دیا ہے کہ اقامہ، ملازمت اور سرحدی قوانین کی پابندی کی جائے۔
