Table of Contents
واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرنے والے سابق فوجی افسر نڈال ملک حسن کی سزائے موت براہ راست نشر کی جائے گی۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق نڈال حسن کو 3 دسمبر 2026 کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔ امریکی حکام نے اس کارروائی کو براہ راست نشر کرنے کی بھی تصدیق کی ہے۔
پیٹ ہیگستھ کا بیان
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے قدامت پسند ٹی وی چینل ریئل امریکا وائس کو انٹرویو دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ لوگ سزائے موت کی کارروائی دیکھ سکیں۔
ہیگستھ کے مطابق عوام کو ایسے جرائم کے سنگین نتائج سمجھنے چاہییں۔ انہوں نے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزا دینے کی حمایت بھی کی۔
ٹرمپ نے سزائے موت کی منظوری دے دی
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق وزیر دفاع نے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی سفارش کی تھی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 اکتوبر کو اس کی منظوری دی۔
امریکی فوج کے مطابق نڈال حسن کی سزا پر عمل درآمد 3 دسمبر کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے ہوگا۔ یہ کارروائی فورٹ ہُڈ میں ہوگی، جہاں 2009 میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔
فورٹ ہُڈ حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے
نڈال ملک حسن امریکی فوج میں میجر اور فوجی معالج تھا۔ اس نے نومبر 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کی تھی۔
اس حملے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔ فوجی جیوری نے 2013 میں حسن کو قتل اور اقدامِ قتل کے الزامات میں مجرم قرار دیا۔ جیوری نے متفقہ طور پر سزائے موت کی سفارش کی تھی۔
کئی دہائیوں بعد فوجی سزائے موت
اگر مقررہ تاریخ پر سزا پر عمل درآمد ہوا تو یہ 1961 کے بعد امریکا میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔ فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے امریکی فوجی کی آخری سزائے موت 1945 میں دی گئی تھی۔
سزائے موت کو براہ راست نشر کرنے کے فیصلے نے قانونی اور اخلاقی سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائی کو عوام کے سامنے نشر کرنے کی جدید دور میں کوئی واضح مثال موجود نہیں۔
وکلا اور قانونی ماہرین کے تحفظات
سزائے موت کے مقدمات پر کام کرنے والے وکلا نے اس فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق کارروائی کو براہ راست نشر کرنے کے قانونی طریقۂ کار اور حدود واضح نہیں ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نشریات سے متعلق مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
