Table of Contents
انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل کے سیکرٹری جنرل اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج یمن نہیں گئی۔ نہ ہی کوئی پاکستانی جہاز وہاں پہنچا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلانے سے گریز کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے یہ بات حکومت پنجاب کی صوبائی پیغام امن کمیٹی کے زیر اہتمام علمی و فکری نشست کے موقع پر کہی۔ نشست میں پاکستان اور عالم اسلام کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مختلف مذاہب اور مکاتب فکر کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد ضروری ہے
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، خیبر پختونخوا میں پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے شہدا کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں شہدا اور زخمیوں کے خاندانوں کو حوصلہ دیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ پولیس اور فوج کے اہلکار بھی ہمارے اپنے بیٹے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کی قیادت پر زور دیا کہ وہ شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہو۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں۔ تاہم، ریاستی معاملات اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا مقصد امن ہونا چاہیے
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی جائے تو اس کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو وزیراعظم سے رابطے کا مشورہ بھی دیا۔ ان کے مطابق، قومی ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
طاہر اشرفی نے پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کا راستہ اپنانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل تشدد نہیں بلکہ بات چیت ہے۔
تمام مذاہب اور مقدسات کا احترام ضروری ہے
طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب اور مکاتب فکر کے ماننے والوں کا ملک ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام نے اقلیتوں کو حقوق دیے ہیں۔ ان حقوق پر عمل درآمد یقینی بنانا ضروری ہے۔
ان کے مطابق، قومی پیغام امن کمیٹی نے کراچی سے خیبر تک مختلف مکاتب فکر کے افراد کو متحد کیا ہے۔ مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر برادریوں کے مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے پیغام پاکستان کے اصول کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے الفاظ میں، اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور دوسرے کا مسلک چھیڑو نہیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ اسلام اور دیگر مذاہب مقدسات کی توہین کی اجازت نہیں دیتے۔ معاشرے میں مذہبی احترام اور باہمی رواداری کو فروغ دینا ضروری ہے۔
سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون
حافظ طاہر محمود اشرفی نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدے کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق، یہ معاہدہ عالم اسلام کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی کی سلامتی مسلمانوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ حرمین شریفین پر کسی بھی حملے کی مذمت کی جانی چاہیے۔
طاہر اشرفی نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، لاکھوں پاکستانی ان ممالک میں روزگار حاصل کر رہے ہیں۔
سردار رنجیت سنگھ کا امن اور انسانیت پر زور
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار رنجیت سنگھ نے کہا کہ پاکستان امن اور محبت کا گھر ہے۔ انہوں نے انسانیت کو سب سے بڑا مذہب قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن کے فروغ کے لیے تمام پاکستانیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اقلیتوں اور پاک فوج کے ساتھ تعاون بھی اہم ہے۔
سردار رنجیت سنگھ نے کہا کہ پاکستان میں امن اور محبت کا پیغام پھیلانا سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ملک کے استحکام کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔
بشپ ندیم کامران کا ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور
بشپ ندیم کامران نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے موجودہ حالات میں قومی ذمہ داریاں ادا کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔
ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو ملک کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھنا چاہیے۔
نشست کے مقررین نے بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد اور سیاسی مکالمے کو پائیدار امن کے لیے اہم قرار دیا۔
