Table of Contents
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں پاکستانی پارلیمانی وفد کا بیلاروس کا سرکاری دورہ مکمل ہوگیا۔ دورے کا مقصد پاکستان اور بیلاروس کے پارلیمانی اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
بیلاروس کی نیشنل اسمبلی کی کونسل آف دی ریپبلک کی چیئرپرسن نتالیہ کوچانووا نے وفد کی میزبانی کی۔ دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان پارلیمانی تعاون اور مختلف شعبوں میں روابط بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔
پارلیمانی تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت
دورے کی اہم پیش رفت پاکستان کے سینیٹ اور بیلاروس کی کونسل آف دی ریپبلک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط تھے۔
اس یادداشت کا مقصد دونوں پارلیمان کے درمیان باقاعدہ روابط کو فروغ دینا ہے۔ اس میں قانون سازی کے تجربات کے تبادلے اور پارلیمانی وفود کے رابطوں کو بڑھانے کی گنجائش بھی شامل ہے۔
بیلاروس کے صدر سے ملاقات
سید یوسف رضا گیلانی نے بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی سفارت کاری اور مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال ہوا۔
چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانی کمیٹیوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے قانون سازی کے تجربات اور بہترین طریقوں کے تبادلے کی بھی حمایت کی۔
دونوں ممالک کے درمیان اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت کثیرالجہتی فورمز پر تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔
صحت، ٹیکنالوجی اور صنعت میں تعاون
پاکستانی وفد نے بیلاروس کے طبی اور سائنسی اداروں کا دورہ کیا۔ وفد نے صحت، ٹیکنالوجی اور جدید تحقیق کے شعبوں میں بیلاروس کے تجربات کا جائزہ لیا۔
وفد نے منسک ٹریکٹر پلانٹ سمیت صنعتی اداروں کا بھی دورہ کیا۔ ان سرگرمیوں سے صنعتی، زرعی مشینری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر توجہ مرکوز ہوئی۔
تاریخی ورثے اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
وفد نے منسک میں وکٹری مونومنٹ پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ اس موقع پر جنگ اور امن کی تاریخ سے جڑی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
دورے کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ فریقین نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں عملی تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔
پاکستانی وفد کی واپسی کے ساتھ یہ دورہ اختتام پذیر ہوگیا۔ دونوں جانب سے پارلیمانی رابطوں اور دوطرفہ تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
