Table of Contents
اوٹاوا: کینیڈا نے ایران کے 10 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈین حکومت کے مطابق پابندیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ایرانی عوام کے خلاف جبر میں مبینہ کردار پر عائد کی گئی ہیں۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے 23 ستمبر کو نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق یہ اقدامات ایرانی حکومت کے جابرانہ اقدامات کے خلاف کیے گئے ہیں۔
ڈیجیٹل جبر اور سنسرشپ بھی پابندیوں میں شامل
کینیڈین حکومت کے مطابق نئی پابندیوں میں ایرانی سکیورٹی اور حکومتی عہدیدار شامل ہیں۔
ایسے ریاستی اداروں کو بھی ہدف بنایا گیا ہے جو ڈیجیٹل جبر اور سنسرشپ سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
کینیڈا نے کہا کہ ان اقدامات میں ڈیجیٹل نگرانی، سنسرشپ، غیر قانونی تشدد، من مانے حراستی اقدامات اور دھمکیاں شامل ہیں۔
وزیر داخلہ اسکندر مومنی بھی فہرست میں
پابندیوں کی فہرست میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی بھی شامل ہیں۔
کینیڈین حکومت کے مطابق وہ پاسداران انقلاب کے ایک سینئر کمانڈر بھی ہیں۔
فہرست میں تہران کی سائبر پولیس کے سربراہ داؤد معظم گودرزی اور ایرانی سکیورٹی ادارے کے عہدیدار محسن فتحی زادہ بھی شامل ہیں۔
رَسول جلیلی اور روح اللہ مومن نسب کے نام بھی نئی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔
پانچ ایرانی ادارے بھی پابندیوں کی زد میں
کینیڈا نے پانچ ایرانی اداروں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔
ان میں ایرانی آڈیو ویژول میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، ریاستی سنسرشپ سے متعلق ورکنگ گروپ اور ڈوران گروپ شامل ہیں۔
یافتر پژوہان پیشتاز رایانش لمیٹڈ کمپنی اور سراج سائبر اسپیس آرگنائزیشن بھی فہرست میں شامل ہیں۔
کینیڈا کا انسانی حقوق کے تحفظ پر زور
انیتا آنند نے کہا کہ کینیڈا ایرانی حکومت کے اقدامات کے خلاف دستیاب تمام ذرائع استعمال کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات میں عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
کینیڈین حکومت نے کہا کہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایرانی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام جاری رکھے گی۔
کینیڈا کے مطابق نئی پابندیاں ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے میں عالمی دباؤ بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
