Table of Contents
لاہور: لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے اہم فیصلوں پر غور شروع کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امام الحق کی پنڈلی کی انجری کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جاسکتی ہیں۔ بورڈ اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔
امام الحق نے لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز پنڈلی میں تکلیف کی شکایت کی تھی۔ بعد میں اسکین میں بائیں پنڈلی کی معمولی نوعیت کی انجری کی تصدیق ہوئی تھی۔
جعلی انجری کے الزامات
امام الحق کی انجری کے بعد بعض سابق کرکٹرز نے سوالات اٹھائے تھے۔ سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے بھی انجری کی نوعیت پر شکوک کا اظہار کیا۔
میڈیا میں اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ ان الزامات کے بعد پی سی بی کی جانب سے معاملے کا جائزہ لینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تاہم پی سی بی نے 28 اگست کو واضح کیا تھا کہ اسکین میں امام الحق کی بائیں پنڈلی میں low-grade calf strain سامنے آئی ہے۔
بورڈ کے مطابق امام الحق کا علاج قومی ٹیم کی میڈیکل ٹیم کی نگرانی میں جاری تھا۔
ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان
لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستانی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق محمد رضوان اور امام الحق کو واپس پاکستان بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ صائم ایوب اور عرفات منہاس کو برمنگھم ٹیسٹ کے لیے اسکواڈ میں شامل کیے جانے کا امکان بھی ہے۔
محمد رضوان کی کارکردگی بھی ٹیم مینجمنٹ کے لیے تشویش کا باعث بنی ہے۔ ان کی بیٹنگ اور مسلسل ناکامیوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو شکست
انگلینڈ نے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست دی۔ اس کامیابی کے ساتھ انگلینڈ نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی اپنے نام کرلی۔
انگلینڈ کو سیریز میں اب 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ پاکستان نے لارڈز میں 16 سال بعد ٹیسٹ میچ میں شکست کھائی ہے۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں شروع ہوگا۔
پاکستان ٹیم میں بڑے فیصلوں کا امکان
لارڈز کی شکست کے بعد پاکستان ٹیم میں مزید تبدیلیوں کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیم اسکواڈ اور کوچنگ سیٹ اپ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ریڈ بال کوچ کی پوزیشن بھی زیرِ غور ہے۔
پاکستان ٹیم مینجمنٹ تیسرے ٹیسٹ سے قبل کمبی نیشن بہتر بنانے کی کوشش کرے گی۔ اس مقصد کے لیے نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے پر بھی غور جاری ہے۔
