Table of Contents
لاہور: سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مودی کے دور میں سکھوں کی نسل کشی دوبارہ ہو رہی ہے۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے یہ بات لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس میں شرکت کی۔
18 ہزار سکھ کسانوں کی خودکشی کا دعویٰ
گرپتونت سنگھ پنوں نے سکھ کسانوں کی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھاری قرضوں کے باعث 18 ہزار سکھ کسان خودکشی کرچکے ہیں۔
تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔
انہوں نے سکھ کسانوں کو درپیش معاشی مسائل پر بھی بات کی۔
خالصتان ریفرنڈم 16 اگست کو ہوگا
گرپتونت سنگھ پنوں نے خالصتان ریفرنڈم کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے لیے ووٹ کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق خالصتان کے قیام کے لیے 16 اگست کو ریفرنڈم ہوگا۔
یہ ریفرنڈم امریکا میں منعقد کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک میں مقیم سکھ بھی ووٹ دے سکیں گے۔
ان کے مطابق امریکا میں مقیم سکھوں کو بھی ووٹ کا حق حاصل ہوگا۔
خالصتان کا مطالبہ
خالصتان ایک مجوزہ آزاد سکھ ریاست کا تصور ہے۔
اس مطالبے کی حمایت سکھ علیحدگی پسند گروہ کرتے رہے ہیں۔
سکھ فار جسٹس بھی خالصتان کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔
بھارتی حکومت خالصتان کے مطالبے اور اس سے وابستہ سرگرمیوں کی مخالفت کرتی ہے۔
پاکستان کو جشن آزادی کی مبارکباد
گرپتونت سنگھ پنوں نے پاکستانی عوام کو جشن آزادی کی مبارکباد بھی دی۔
انہوں نے پاکستان کی موجودہ قیادت کے بارے میں بھی بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کا ذکر کیا۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے پاکستان کے عالمی کردار کو بھی سراہا۔
ان کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
