Table of Contents
نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئی سی سی پابندیوں کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا ہے۔
چار امریکی انسانی حقوق تنظیموں نے نیویارک کی وفاقی عدالت سے رجوع کیا ہے۔
تنظیموں نے امریکی حکومت کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے کی درخواست کی ہے۔
چار انسانی حقوق تنظیموں نے مقدمہ دائر کردیا
مقدمہ چار امریکی انسانی حقوق تنظیموں نے دائر کیا ہے۔
ان میں ہیومن رائٹس واچ، امریکن فرینڈز سروس کمیٹی شامل ہیں۔
سینٹر فار کانسٹی ٹیوشنل رائٹس بھی درخواست گزاروں میں شامل ہے۔
اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ نے بھی مقدمے میں شمولیت اختیار کی ہے۔
تنظیموں نے عدالت میں 101 صفحات پر مشتمل درخواست جمع کرائی ہے۔
آئی سی سی کے ججز اور پراسیکیوٹرز پر پابندیاں
درخواست میں امریکی پابندیوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔
تنظیموں کے مطابق آئی سی سی سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ان میں ججز، پراسیکیوٹرز اور دیگر افراد شامل ہیں۔
یہ افراد مختلف معاملات میں آئی سی سی کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
تنظیموں کا آزادی اظہار کا مؤقف
درخواست گزاروں نے امریکی آئین کی پہلی ترمیم کا حوالہ دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پابندیاں آزادی اظہار کو متاثر کرتی ہیں۔
تنظیموں کے مطابق پابندیوں سے انسانی حقوق کا کام متاثر ہوا ہے۔
آئی سی سی کے ساتھ قانونی تعاون بھی مشکل ہوگیا ہے۔
تنظیموں نے عدالت سے ان پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
جنگی جرائم کے متاثرین کا معاملہ
انسانی حقوق تنظیموں نے جنگی جرائم کے متاثرین کا بھی ذکر کیا ہے۔
ان کے مطابق متاثرین انصاف کے لیے آئی سی سی سے رجوع کرتے ہیں۔
پابندیاں ان کوششوں میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
تنظیموں نے نسل کشی کے متاثرین کا بھی حوالہ دیا ہے۔
انہوں نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا بھی ذکر کیا۔
امریکا نے آئی سی سی سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق امریکا نے کئی افراد پر پابندیاں لگائی ہیں۔
ان میں آئی سی سی کے آٹھ ججز اور تین پراسیکیوٹرز شامل ہیں۔
ایک اقوام متحدہ کے خصوصی ماہر کو بھی پابندیوں کا سامنا ہے۔
تین انسانی حقوق تنظیمیں بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آچکی ہیں۔
جون 2025 میں امریکا نے آئی سی سی کے چار ججز پر پابندیاں لگائی تھیں۔
بعد میں پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا۔
فرانچسکا البانیز بھی امریکی پابندیوں کی زد میں
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچسکا البانیز بھی پابندیوں کا سامنا کرچکی ہیں۔
وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتی ہیں۔
امریکی اقدامات پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت اعتراض کیا ہے۔
ٹرمپ نے فروری 2025 میں ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 فروری 2025 کو ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا۔
اس حکم کے تحت آئی سی سی سے متعلق پابندیوں کی راہ ہموار ہوئی۔
امریکی حکومت نے بعض افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد کیں۔
ان کے اثاثے منجمد کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔
بعض افراد پر امریکا میں داخلے کی پابندی بھی لگ سکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا آئی سی سی پر مؤقف
ٹرمپ انتظامیہ آئی سی سی کے دائرۂ اختیار کو تسلیم نہیں کرتی۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کو امریکی شہریوں پر اختیار نہیں۔
واشنگٹن ایسے ممالک کے شہریوں سے متعلق کارروائی پر بھی اعتراض کرتا ہے۔
ان ممالک نے عدالت کا دائرۂ اختیار قبول نہیں کیا۔
امریکا نے خاص طور پر اسرائیلی حکام سے متعلق کارروائی کی مخالفت کی ہے۔
غزہ جنگ اور آئی سی سی کی کارروائی
آئی سی سی نے غزہ جنگ سے متعلق بھی تحقیقات کی ہیں۔
عدالت نے اسرائیلی حکام کے خلاف کارروائی کی ہے۔
نومبر 2024 میں آئی سی سی نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
یہ وارنٹ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف تھا۔
سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف بھی وارنٹ جاری ہوا تھا۔
اسرائیل نے آئی سی سی کے الزامات مسترد کیے تھے۔
امریکا نے بھی عدالت کے اقدام پر اعتراض کیا تھا۔
واشنگٹن نے اسے غیر قانونی اور سیاسی کارروائی قرار دیا تھا۔
امریکی عدالت میں مقدمے کا نیا مرحلہ
چار انسانی حقوق تنظیموں کے مقدمے سے معاملہ مزید اہم ہوگیا ہے۔
اب امریکی عدالت ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیوں کا جائزہ لے گی۔
مقدمے میں پابندیوں کو امریکی آئین سے متصادم قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔
عدالت کا فیصلہ آئی سی سی کے ساتھ امریکی تعلقات پر اثر ڈال سکتا ہے۔
