Table of Contents
رانچی: بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں سول سروس کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
رائٹرز کے مطابق پیر کو ہزاروں طلبہ اور بے روزگار نوجوان ریاستی مقننہ کی جانب مارچ کر رہے تھے۔ مظاہرین نے امتحانی نظام میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیا۔
امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ
جھارکھنڈ میں طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں نے گزشتہ ماہ کے آخر میں احتجاج شروع کیا تھا۔
مظاہرین نے بھرتی کے امتحانات میں مبینہ پیپر لیک سمیت مختلف بے ضابطگیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطالبات میں ریاستی امتحانی نظام میں اصلاحات بھی شامل ہیں۔
مظاہرین بعض امتحانات منسوخ کرنے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی وفاقی پولیس سے تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
ریاستی اسمبلی کی طرف مارچ
یہ احتجاج 25 جولائی کو شروع ہوا تھا۔ ریاستی دارالحکومت رانچی کے ایک اسٹیڈیم میں ہزاروں افراد کے جمع ہونے کے بعد مظاہرہ مزید شدت اختیار کر گیا۔
پیر کو مظاہرین ریاستی مقننہ کی جانب مارچ کرنے لگے۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کی۔
ٹی وی فوٹیج میں مظاہرین کو پلے کارڈز اٹھائے اور قومی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا گیا۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بھی لگائے۔
پولیس کا آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال
رپورٹس کے مطابق کچھ مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹوں کو دھکیلنے کی کوشش کی۔ اس دوران بعض افراد کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے۔ واٹر کینن بھی استعمال کی گئی جبکہ پولیس اہلکاروں نے لاٹھی چارج کیا۔
رانچی سٹی پولیس کے سربراہ پارس رانا نے اے این آئی سے گفتگو میں کہا کہ پولیس نے مختصر وقت کے لیے کم سے کم طاقت استعمال کی۔
انہوں نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ پولیس افسر کے مطابق مظاہرین کے مطالبات حکومت تک پہنچ رہے ہیں۔
احتجاج کا پس منظر
جھارکھنڈ میں ہونے والے مظاہرے بھارت میں امتحانی نظام اور سرکاری ملازمتوں کے مواقع سے متعلق بڑھتے ہوئے غصے کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس سے قبل دارالحکومت نئی دہلی میں بھی نوجوانوں کی قیادت میں احتجاج ہوا تھا۔ ان مظاہروں کا تعلق مبینہ امتحانی پیپر لیکس سے جوڑا گیا تھا۔
ان احتجاجی مظاہروں کو تعلیم کے شعبے میں بدعنوانی، روزگار کے محدود مواقع اور بے روزگاری کے خلاف نوجوانوں کے غصے کا اظہار بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ریاستی حکومت کا مؤقف
جھارکھنڈ کی ریاستی حکومت نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں۔
ریاستی حکومت نے مزید مذاکرات کے لیے بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
تاہم مظاہرین کی جانب سے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات، بعض امتحانات کی منسوخی اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے مطالبات برقرار ہیں۔
