سیئول: شمالی کوریا نے نیٹو کے یورپ بھر میں فوجی ایندھن کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کے منصوبے پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ اقدام اتحاد کی جنگی تیاریوں اور بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کی عکاسی کرتا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے KCNA کے مطابق جاری کیے گئے تبصرے میں کہا گیا کہ نیٹو کا فیول سپلائی چین کیپبلیٹی پروگرام اس بات کا ثبوت ہے کہ اتحاد دفاعی تنظیم سے آگے بڑھ کر ایک زیادہ جارحانہ فوجی بلاک میں تبدیل ہو رہا ہے۔
شمالی کوریا کے مطابق اس منصوبے کے تحت مغربی یورپ میں موجود تقریباً 10 ہزار کلومیٹر طویل فوجی ایندھن کے نیٹ ورک کو شمالی یورپ اور نیٹو کے نئے رکن ممالک تک توسیع دی جائے گی، جس سے اتحاد کی عسکری نقل و حرکت اور لاجسٹک صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔
تاہم شمالی کوریا نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے کہ یہ منصوبہ یورپ سے باہر ممکنہ فوجی تنازعات کی حمایت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب نیٹو کا مؤقف ہے کہ اس نے 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اپنی دفاعی اور بازدار (Deterrence) صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں تاکہ رکن ممالک کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
شمالی کوریا مسلسل امریکہ، جنوبی کوریا، نیٹو اور ان کے اتحادی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون پر تنقید کرتا رہا ہے۔ پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات خطے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
ادھر شمالی کوریا اور روس کے درمیان بھی دفاعی تعلقات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دونوں ممالک نے جون 2024 میں جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ کیا تھا، جس میں باہمی دفاعی تعاون بھی شامل ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا نے 2024 کے دوران تقریباً 14 ہزار فوجی روس کے کرسک علاقے بھیجے تھے تاکہ یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں روسی افواج کی مدد کی جا سکے، تاہم اس حوالے سے مختلف ممالک کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

