واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل حماس کے ساتھ ہونے والے تخفیفِ اسلحہ معاہدے پر "بہت خوش” ہے، حالانکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا۔
کابینہ کے اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان اس معاملے پر مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔
انہوں نے کہا، "ہمارا اسرائیل کے ساتھ مفاہمت ہے۔ اسرائیل اس معاہدے پر بہت خوش ہے۔ اسرائیل نے ہماری بھرپور مدد کی اور اس کا تعاون شاندار رہا۔”
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ حماس کو تخفیفِ اسلحہ پر آمادہ کرنا ناممکن ہوگا، لیکن یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "پانچ ماہ پہلے ایسا معاہدہ ممکن نظر نہیں آتا تھا، لیکن ایران کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت نے حالات بدل دیے ہیں۔ یہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔”
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے معاہدے پر تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جبکہ ایک "سینئر اسرائیلی اہلکار” سے منسوب بیانات میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل موجودہ تجویز کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی غزہ سے انخلا کے اس حصے سے اتفاق کرتا ہے جو معاہدے میں شامل ہے۔
صحافیوں کی جانب سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ حماس اپنے ہتھیار کس کے حوالے کرے گی، جس پر ٹرمپ نے جواب دیا، "بورڈ آف پیس۔”
تاہم معاہدے کی مجوزہ تفصیلات کے مطابق حماس کے ہتھیار براہِ راست بورڈ آف پیس کو نہیں بلکہ غزہ کی نئی فلسطینی ٹیکنوکریٹک انتظامیہ نیشنل کمیٹی فار غزہ ایڈمنسٹریشن (NCAG) کے حوالے کیے جائیں گے، جس کی نگرانی بورڈ آف پیس کرے گا۔
معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، کیونکہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے باضابطہ منظوری یا حمایت سامنے نہیں آئی، جبکہ اسرائیلی حکام کے غیر رسمی بیانات معاہدے کے بعض اہم نکات پر تحفظات ظاہر کر رہے ہیں۔

