اسرائیل میں انتخابی نتائج پر سیاسی تنازع جاری ہے۔ یاشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزن کوٹ نے انتخابی عمل کی توثیق کا خیرمقدم کیا ہے۔
انہوں نے مرکزی انتخابی کمیٹی کے چیئرمین نوم سوہلبرگ کے بیان کو سراہا۔ سوہلبرگ کے مطابق، گزشتہ ہفتے ہونے والی قومی ووٹنگ درست طریقے سے منعقد ہوئی۔ انہوں نے انتخابی مداخلت سے متعلق بیشتر رپورٹ شدہ الزامات کو بھی غلط قرار دیا۔
نیتن یاہو پر نتائج مسترد کرنے کی کوشش کا الزام
آئزن کوٹ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں پر تنقید کی۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت انتخابی نتائج کو غیر قانونی قرار دینے کی مہم چلا رہی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عبرانی زبان میں جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ عوامی فیصلے کو مسترد کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔
ان کے مطابق، ایسی کوشش عوام کی رائے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس سے ایک پوری برادری کو بھی بدنام کیا جاتا ہے۔ آئزن کوٹ نے کہا کہ اس مہم کا مقصد اسرائیل کو دوبارہ انتخابات کی طرف دھکیلنا بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف شکست تسلیم نہ کرنے والے ہی ایسی مہم شروع کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول، اس سے ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔
آئزن کوٹ کا انتخابی نتائج کو واضح قرار دینے پر اصرار
یاشار پارٹی کے سربراہ نے انتخابی نتائج کو درست اور واضح قرار دیا۔ انہوں نے اسرائیلی شہریوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی بیانات اور متضاد دعوؤں کو نظرانداز کریں۔
آئزن کوٹ کے مطابق، موجودہ حکومت کے پاس پارلیمانی اکثریت موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کا اتحاد انتخابی مقابلہ ہار چکا ہے۔
دوسری جانب، انتخابی مداخلت کے الزامات اور نتائج سے متعلق سیاسی اختلافات بدستور موجود ہیں۔ تاہم، مرکزی انتخابی کمیٹی کے چیئرمین کے بیان نے انتخابی عمل کی قانونی حیثیت پر جاری بحث میں اہم موڑ پیدا کیا ہے۔
